آٹومیشن کا وار: وہ نوکریاں جو مستقبل میں ختم ہو جائیں گی، ابھی جان لیں

webmaster

자동화로 사라지는 직업 목록 - **Prompt 1: The Evolving Workplace in Pakistan**
    "A dynamic, split-frame image depicting the tra...

السلام و علیکم میرے پیارے قارئین! امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے اور زندگی کی بھاگ دوڑ میں ہنستے مسکراتے آگے بڑھ رہے ہوں گے۔ آج میں ایک ایسے موضوع پر بات کرنے جا رہا ہوں جو ہم سب کی زندگیوں پر اثر انداز ہو رہا ہے، اور میرے خیال میں اس پر کھل کر بات ہونی چاہیے۔ وقت کتنی تیزی سے بدل رہا ہے، کبھی سوچا ہے؟ مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے ابھی کل کی بات ہو جب ہم اپنے بڑے بزرگوں سے ٹیکنالوجی کے کمالات سنتے تھے، اور آج یہ ٹیکنالوجی ہمارے گھروں اور روزمرہ کے کاموں کا حصہ بن چکی ہے۔ اور صرف یہی نہیں، اب تو یہ ہماری نوکریوں پر بھی اثر ڈال رہی ہے۔ جی ہاں، میں بات کر رہا ہوں مصنوعی ذہانت (AI) اور آٹومیشن کی، جس کی وجہ سے کئی پرانے پیشے تیزی سے معدوم ہوتے جا رہے ہیں اور نئے مواقع جنم لے رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس کا اثر صاف نظر آ رہا ہے اور بہت سے لوگ اس تبدیلی سے پریشان ہیں کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا؟ میں نے خود محسوس کیا ہے کہ آج کے دور میں اگر ہم نے خود کو اپ گریڈ نہیں کیا تو پیچھے رہ سکتے ہیں۔ یہ صرف خوف زدہ کرنے والی بات نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جس کا سامنا ہم سب کو کرنا ہے۔ بعض شعبے جیسے اکاؤنٹینسی اور آڈیٹنگ میں زیادہ تر کام اب سسٹم خود ہی کر رہے ہیں، اور انتظامی عملے کے لیے بھی یہ صورتحال مختلف نہیں۔ کیا ہم سب اس کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم جانتے ہیں کہ اگلے چند سالوں میں کون سی نوکریاں ختم ہونے والی ہیں اور کون سی نئی آئیں گی؟آئیے، آج ہم انہی سوالات کے جوابات ڈھونڈتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس بدلتی دنیا میں ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ اس مضمون میں ہم تفصیل سے دیکھیں گے کہ آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت سے کون سی نوکریاں خطرے میں ہیں اور ہمیں اپنے آپ کو کیسے تیار کرنا چاہیے۔ چلیں، اس اہم موضوع پر گہرائی سے بات کرتے ہیں، بالکل صحیح اور تازہ ترین معلومات کے ساتھ۔

자동화로 사라지는 직업 목록 관련 이미지 1

آٹومیشن کی زد میں آنے والے روایتی پیشے اور ان کا مستقبل

کمپیوٹرائزیشن سے متاثر ہونے والی نوکریاں

آج کے دور میں سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ بہت سے ایسے پیشے جنہیں کبھی ہم محفوظ سمجھتے تھے، اب وہ آٹومیشن کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ چند سال پہلے تک بینکوں میں کیشیئرز کی ایک بڑی تعداد ہوتی تھی، لیکن اب ATM اور ڈیجیٹل بینکنگ کی وجہ سے ان کی ضرورت کافی حد تک کم ہو گئی ہے۔ اسی طرح، ڈیٹا انٹری کا کام جو پہلے بہت سے لوگوں کو روزگار فراہم کرتا تھا، اب زیادہ تر سافٹ ویئر اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے خود بخود ہو جاتا ہے۔ فیکٹریوں میں روایتی مزدوروں کی جگہ روبوٹس لے رہے ہیں، اور یہ سلسلہ صرف صنعتی شعبے تک محدود نہیں ہے۔ انتظامی امور، بک کیپنگ، اور یہاں تک کہ کچھ قانونی کام بھی اب مشین لرننگ الگورتھمز کی مدد سے زیادہ مؤثر طریقے سے انجام دیے جا رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے ایک رشتہ دار ایک بڑی کمپنی میں اکاؤنٹینٹ تھے اور ان کا زیادہ تر وقت کاغذی کارروائی اور انٹریز میں گزرتا تھا، لیکن اب ان کی جگہ ایک جدید سافٹ ویئر نے لے لی ہے جو سارے حساب کتاب اور رپورٹس منٹوں میں تیار کر دیتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر کئی بار دل میں ایک عجیب سی گھبراہٹ ہوتی ہے کہ ہماری نسل نے تو جو مہارتیں سیکھی تھیں وہ کیا اب بے کار ہو جائیں گی؟ لیکن پھر یہ بھی سوچتا ہوں کہ ہر تبدیلی اپنے ساتھ نئے مواقع بھی لاتی ہے، بس ہمیں انہیں پہچاننا اور ان کے لیے خود کو تیار کرنا ہے۔

اس تبدیلی کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے، آئیے کچھ ایسے پیشوں کا جائزہ لیتے ہیں جو آٹومیشن سے متاثر ہو رہے ہیں اور ان کے مقابلے میں کون سے نئے مواقع سامنے آ رہے ہیں:

روایتی پیشے (آٹومیشن سے متاثر) نئے ابھرتے ہوئے پیشے (AI/آٹومیشن کے ذریعے)
کیشیئر ڈیجیٹل ادائیگی ماہرین (Digital Payment Specialists)
ڈیٹا انٹری آپریٹر ڈیٹا اینالسٹ (Data Analyst)، مشین لرننگ انجینئر (Machine Learning Engineer)
فیکٹری ورکر (روایتی) روبوٹکس ٹیکنیشین (Robotics Technician)، آٹومیشن انجینئر (Automation Engineer)
بک کیپر/اکاؤنٹینٹ (دستی) فنانشل ٹیکنالوجی ماہرین (FinTech Specialists)، AI آڈیٹر (AI Auditor)
کال سینٹر ایجنٹ (عام سوالات) کسٹمر ایکسپیرینس ڈیزائنر (Customer Experience Designer)، AI چیٹ بوٹ ڈویلپر (AI Chatbot Developer)
ڈرائیور (ٹرانسپورٹ) خود مختار گاڑی ٹیکنیشین (Autonomous Vehicle Technician)، لاجسٹکس آپٹیمائزر (Logistics Optimizer)

ڈیجیٹل دور میں بدلتے کام کے انداز

یہ تبدیلی صرف نوکریوں کے خاتمے تک محدود نہیں بلکہ کام کرنے کے انداز کو بھی یکسر بدل رہی ہے۔ مثال کے طور پر، ٹرانسپورٹ کے شعبے کو ہی لے لیں، جہاں خودکار گاڑیاں اور ڈرونز کی آمد سے ڈرائیوروں اور ڈیلیوری عملے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ کال سینٹرز میں بھی اب بہت سے کام چیٹ بوٹس اور AI اسسٹنٹس کے ذریعے کیے جا رہے ہیں، جو صارفین کے سوالات کے جوابات دیتے ہیں اور مسائل حل کرتے ہیں۔ مجھے ایک دوست نے بتایا کہ وہ جس کال سینٹر میں کام کرتا تھا، وہاں پچھلے ایک سال میں عملے کی تعداد آدھی رہ گئی ہے کیونکہ ان کے آدھے سے زیادہ سوالات اب AI ہینڈل کر لیتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ہم ایک ایسے طوفان کی زد میں ہیں جو سب کچھ بدل کر رکھ دے گا، اور اس طوفان سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم خود کو مضبوط بنائیں اور نئی ہواؤں کے رخ کو سمجھیں۔ روایتی ریٹیل میں بھی آن لائن شاپنگ اور خودکار چیک آؤٹ سسٹمز کی وجہ سے سیلز پرسن اور کیشیئرز کی مانگ کم ہو رہی ہے۔ یہ سب اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر ہم نے اپنے ہنر کو اپ ڈیٹ نہیں کیا تو ہم اس تیز رفتار دنیا میں پیچھے رہ جائیں گے۔

مصنوعی ذہانت اور ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بننا

AI اب صرف فلموں کی کہانی نہیں

آج سے کچھ سال پہلے مصنوعی ذہانت صرف سائنس فکشن فلموں کی کہانیوں تک محدود تھی، لیکن اب یہ حقیقت بن چکی ہے اور ہماری روزمرہ کی زندگی کا لازمی جزو بن گئی ہے۔ آپ نے شاید محسوس کیا ہو گا کہ جب آپ کوئی چیز آن لائن خریدتے ہیں، تو آپ کو ملتی جلتی مصنوعات کی تجاویز ملتی ہیں۔ یہ سب AI کی مرہون منت ہے۔ جب آپ اپنے اسمارٹ فون پر گوگل میپس استعمال کرتے ہیں یا اپنے پسندیدہ گانے سنتے ہیں تو وہ آپ کی ترجیحات کے مطابق خود بخود پلے لسٹ بناتا ہے، یہ بھی مصنوعی ذہانت کا کمال ہے۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ میں نے حال ہی میں ایک نئی سمارٹ ہوم ڈیوائس خریدی ہے جو میری آواز پر کام کرتی ہے اور گھر کے تمام آلات کو کنٹرول کرتی ہے۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسی ٹیکنالوجی میرے اپنے گھر میں ہو گی!

یہ صرف سہولت ہی نہیں فراہم کر رہی بلکہ ہمارے رہنے سہنے کے انداز کو بھی تبدیل کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا فیڈز سے لے کر ای میل فلٹرز تک، AI ہر جگہ موجود ہے اور خاموشی سے ہمارے فیصلوں اور تجربات پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ہمیں اسے ایک طاقتور ٹول کے طور پر دیکھنا چاہیے جو ہمارے کاموں کو آسان بنا سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اس کا صحیح استعمال کرنا سیکھیں۔

Advertisement

AI کے فوائد اور چیلنجز

مصنوعی ذہانت کے فوائد بے شمار ہیں، جیسے کہ صحت کے شعبے میں بیماریوں کی جلد تشخیص، مالیاتی شعبے میں فراڈ کا پتہ لگانا، اور تعلیم میں طلباء کی انفرادی ضروریات کے مطابق مواد فراہم کرنا۔ لیکن اس کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج تو یہ ہے کہ بہت سے لوگ اس نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے سے گھبراتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ یہ بہت پیچیدہ ہے یا شاید ان کی نوکری چھین لے گی۔ پھر اخلاقی چیلنجز بھی ہیں، جیسے کہ AI کے فیصلوں میں تعصب کا امکان یا ڈیٹا پرائیویسی کے مسائل۔ ایک بار میں نے ایک خبر پڑھی تھی کہ ایک AI سسٹم نے غلطی سے کچھ لوگوں کو نوکری کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا کیونکہ اس میں پرانے ڈیٹا کی بنیاد پر کچھ تعصبات شامل ہو گئے تھے۔ یہ سب ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں AI کو صرف ایک مشین نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا ہوگا۔ ہمیں اس کے الگورتھمز کو سمجھنا ہوگا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ یہ انسانیت کے لیے مفید ثابت ہو۔ میرے خیال میں اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمیں دہرائے جانے والے اور بورنگ کاموں سے آزاد کر سکتا ہے تاکہ ہم زیادہ تخلیقی اور بامعنی کاموں پر توجہ دے سکیں۔

نئے دور کے لیے ضروری ہنر اور صلاحیتیں

تخلیقی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت

آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے اس دور میں زندہ رہنے اور ترقی کرنے کے لیے ہمیں اپنے ہنر سیٹ کو اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔ وہ ہنر جو انسانوں کو مشینوں سے ممتاز کرتے ہیں، اب پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو تخلیقی سوچ (Critical Thinking) اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت (Problem Solving) ہے۔ مشینیں ڈیٹا کو پروسیس کر سکتی ہیں، لیکن وہ نئے آئیڈیاز نہیں بنا سکتیں یا پیچیدہ انسانی مسائل کو گہرائی سے سمجھ کر حل نہیں کر سکتیں۔ ایک دفعہ میں ایک پروجیکٹ پر کام کر رہا تھا جہاں ہم نے ایک پرانے سسٹم کو نئے AI پر مبنی حل سے تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ AI نے بہت سے کاموں کو خود بخود کر دیا، لیکن جب کوئی غیر متوقع مسئلہ پیش آیا تو صرف انسانی تخلیقی سوچ ہی تھی جو اس کا انوکھا حل نکال سکی۔ اس کے علاوہ، پیچیدہ تجزیاتی سوچ، جہاں آپ مختلف معلومات کو جوڑ کر ایک بڑی تصویر دیکھتے ہیں، یہ بھی ایک ایسا ہنر ہے جسے مشینیں آسانی سے نقل نہیں کر سکتیں۔ میرے خیال میں یہ ہنر ہمیں نہ صرف اپنے کیریئر میں آگے بڑھنے میں مدد دیں گے بلکہ ہمیں ذاتی زندگی میں بھی بہتر فیصلے کرنے کے قابل بنائیں گے۔

جذباتی ذہانت اور مواصلاتی ہنر

دوسرے نمبر پر جذباتی ذہانت (Emotional Intelligence) اور مواصلاتی ہنر (Communication Skills) ہیں۔ مشینیں انسانوں کے جذبات کو سمجھ نہیں سکتیں اور نہ ہی ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کر سکتیں۔ جبکہ آج کے دور میں ٹیم ورک، کسٹمر سروس، اور قیادت کے لیے یہ دونوں ہنر انتہائی اہم ہیں۔ آپ کسی AI سے یہ توقع نہیں کر سکتے کہ وہ کسی ناراض کسٹمر کو سمجھا سکے یا کسی ٹیم کے اندر پیدا ہونے والے تنازع کو حل کر سکے۔ انسانی تعلقات کی نزاکتیں صرف انسان ہی سمجھ سکتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب کوئی مشکل صورتحال پیش آتی ہے تو صرف وہی لوگ اسے احسن طریقے سے حل کر پاتے ہیں جن میں جذباتی ذہانت اور بہترین مواصلاتی ہنر ہوتے ہیں۔ یہ ہنر نہ صرف ہمارے کام کی جگہ پر بلکہ ہماری ذاتی زندگی میں بھی خوشگوار تعلقات برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ، تنقیدی سوچ (Critical Thinking)، فیصلہ سازی (Decision Making) اور سیکھنے کی مسلسل خواہش (Continuous Learning) بھی ایسے ہنر ہیں جو ہمیں اس بدلتے ہوئے دور میں مستحکم رکھیں گے۔

پاکستان میں AI اور آٹومیشن کے مواقع اور چیلنجز

Advertisement

مقامی معیشت پر اثرات

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کے اثرات دو دھاری تلوار کی مانند ہیں۔ ایک طرف، یہ ہماری معیشت کو جدید بنانے اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کا ایک سنہری موقع فراہم کرتے ہیں، تو دوسری طرف، روزگار کے مواقع کے حوالے سے نئے چیلنجز بھی کھڑے کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب ہمارے شہر میں پہلی بڑی ٹیکسٹائل فیکٹری میں جدید مشینیں لگائی گئیں تو بہت سے لوگ پریشان ہو گئے تھے کہ اب ان کی نوکریاں ختم ہو جائیں گی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ نئی مشینیں چلانے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے نئے ہنر مند افراد کی ضرورت بھی پیش آئی۔ پاکستان میں خاص طور پر زراعت، مینوفیکچرنگ، اور سروسز کے شعبے میں آٹومیشن کا گہرا اثر نظر آ رہا ہے۔ ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹمز اور ای-گورننس کی طرف بڑھتا رجحان بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ ہمیں اس تبدیلی کو قبول کرنا ہو گا۔ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہو گا تاکہ اس تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے اور مثبت اثرات کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جا سکے۔

نئے کاروبار اور روزگار کے دروازے

یہ صرف نوکریاں چھیننے کا معاملہ نہیں بلکہ نئے کاروبار اور روزگار کے دروازے کھولنے کا بھی ایک موقع ہے۔ پاکستان میں خاص طور پر ٹیکنالوجی سٹارٹ اپس (Technology Startups) کا ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے جو مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن پر مبنی حل فراہم کر رہے ہیں۔ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی، اور AI انجینئرنگ جیسے شعبوں میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ نوجوانوں کو ان شعبوں کی طرف راغب کیا جائے اور انہیں ضروری تعلیم اور تربیت فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ، AI سے متعلق مشاورت (AI Consultancy) اور تربیت کی بھی بہت مانگ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم نے ہوشیاری سے کام لیا تو ہم اس تبدیلی کو اپنے فائدے میں بدل سکتے ہیں۔ ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ وہ کون سے شعبے ہیں جہاں AI انسانوں کی جگہ نہیں لے سکتا، بلکہ ان کے ساتھ مل کر کام کر سکتا، اور پھر ان شعبوں میں سرمایہ کاری کرنی ہے۔

تعلیم اور تربیت کا کردار: مستقبل کے لیے تیاری

نصاب میں تبدیلی کی ضرورت

اس تیزی سے بدلتی دنیا میں تعلیم کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام کو اس نئے چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے خود کو بدلنا ہوگا۔ روایتی نصاب جو صرف رٹا لگانے پر زور دیتا ہے، اب کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنے بچوں کو ایسے ہنر سکھانے ہوں گے جو انہیں مستقبل کی نوکریوں کے لیے تیار کر سکیں۔ اس میں کوڈنگ، ڈیٹا اینالیٹکس، مشین لرننگ کے بنیادی تصورات، اور سب سے اہم بات، تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے والد صاحب ہمیشہ کہتے تھے کہ “جو علم وقت کے ساتھ نہ بدلے وہ بے کار ہے” اور آج یہ بات بالکل سچ لگتی ہے۔ ہمیں سکولوں اور کالجوں میں جدید ترین ٹیکنالوجیز کو متعارف کرانا ہو گا اور اساتذہ کو بھی اس کے لیے تربیت دینی ہو گی۔ یہ صرف ڈگری حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ عملی مہارتیں سیکھنے کا ہے۔

لائف لانگ لرننگ کی اہمیت

آج کے دور میں “لائف لانگ لرننگ” یعنی زندگی بھر سیکھتے رہنے کا تصور بے حد ضروری ہے۔ جب میں نے اپنی تعلیم مکمل کی تھی تو مجھے لگتا تھا کہ میں نے سب کچھ سیکھ لیا ہے، لیکن آج میں دیکھتا ہوں کہ ہر چند سال بعد نئی ٹیکنالوجیز آ جاتی ہیں اور ہمیں خود کو اپ ڈیٹ کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں نئے ہنر سیکھنے اور پرانے ہنر کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشاں رہنا چاہیے۔ آن لائن کورسز، ورکشاپس، اور سرٹیفیکیشنز (Certifications) اس کے لیے بہترین وسائل ہیں۔ میرا ایک دوست ہے جو بینک میں کام کرتا تھا اور جب آٹومیشن کا خطرہ بڑھا تو اس نے ڈیٹا سائنس کا ایک آن لائن کورس کیا اور اب وہ بینک کے لیے ڈیٹا اینالیٹکس کا کام کرتا ہے، یعنی اس نے خود کو مکمل طور پر ری سکل (Reskill) کر لیا۔ یہ مثال ہمیں بتاتی ہے کہ اگر ہم سیکھنے کی خواہش رکھیں تو کوئی بھی چیلنج ہمیں ہرا نہیں سکتا۔ ہمیں نئے ٹولز اور ٹیکنالوجیز کو اپنانے سے نہیں گھبرانا چاہیے بلکہ انہیں ایک موقع سمجھنا چاہیے تاکہ ہم اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں۔

ذہین مشینوں کے ساتھ کام کرنا: انسانیت کا نیا باب

Advertisement

انسان اور مشین کی ہم آہنگی

اب یہ تصور کہ مشینیں ہماری جگہ لے لیں گی، تبدیل ہو کر یہ ہو گیا ہے کہ مشینیں ہمارے ساتھ مل کر کام کریں گی۔ یہ انسانیت کا ایک نیا باب ہے جہاں انسان اور مصنوعی ذہانت ایک دوسرے کے معاون بنیں گے۔ ڈاکٹرز AI کی مدد سے بیماریوں کی زیادہ درست تشخیص کر سکیں گے، انجینئرز بہتر ڈیزائن بنا سکیں گے، اور فنکار اپنی تخلیقات کو نئے انداز میں پیش کر سکیں گے۔ میرا ماننا ہے کہ AI کا مقصد انسانوں کو بے کار کرنا نہیں بلکہ ان کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے تاکہ وہ زیادہ پیچیدہ، تخلیقی اور بامعنی کاموں پر توجہ دے سکیں۔ جب میں کوئی بلاگ پوسٹ لکھتا ہوں تو AI مجھے ریسرچ کرنے اور آئیڈیاز پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے، لیکن حتمی تحریر اور انسانی احساسات کا اظہار تو صرف میں ہی کر سکتا ہوں۔ یہ وہی “آگمنٹڈ انٹیلی جنس” ہے جہاں AI ہماری سوچ اور صلاحیتوں کو وسعت دیتا ہے۔

سہولت اور وقت کی بچت

جب انسان اور مشین مل کر کام کرتے ہیں تو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سے کام جو پہلے وقت طلب اور مشکل ہوتے تھے، اب وہ نہ صرف آسان ہو جاتے ہیں بلکہ بہت کم وقت میں مکمل ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کسٹمر سروس میں AI چیٹ بوٹس ابتدائی سوالات کے جوابات دیتے ہیں اور عام مسائل حل کرتے ہیں، جس سے انسانی ایجنٹس کو مزید پیچیدہ اور حساس معاملات پر توجہ دینے کا موقع ملتا ہے۔ اس سے صارفین کو فوری رسپانس ملتا ہے اور کمپنیوں کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح، مینوفیکچرنگ میں روبوٹس دہرائے جانے والے اور خطرناک کام کرتے ہیں، جس سے انسانی مزدوروں کی حفاظت یقینی بنتی ہے اور وہ زیادہ ہنر مندانہ کاموں پر فوکس کر سکتے ہیں۔ مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے AI ایک ایسا اسسٹنٹ ہے جو ہمارے روزمرہ کے کاموں کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے اور ہمیں اپنے بہترین کام کو انجام دینے کے لیے زیادہ آزادی دیتا ہے۔ یہ سب ہماری زندگی میں سہولت اور وقت کی بچت لاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے اہم مقاصد پر زیادہ توجہ دے سکتے ہیں۔

مالیاتی منصوبہ بندی اور مستقبل کا تحفظ

تبدیلی کے لیے مالیاتی تیاری

آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے اس دور میں جہاں نوکریوں کے مواقع تبدیل ہو رہے ہیں، وہاں مالیاتی منصوبہ بندی کی اہمیت بھی دو چند ہو گئی ہے۔ ہمیں صرف ہنر مندی پر ہی نہیں بلکہ اپنی مالی حالت پر بھی توجہ دینی ہو گی۔ میرا مشورہ ہے کہ ہر کسی کو ایک ہنگامی فنڈ (Emergency Fund) ضرور بنانا چاہیے جو کم از کم چھ ماہ کے اخراجات پورے کر سکے۔ یہ نہ صرف غیر یقینی صورتحال میں تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ نئے ہنر سیکھنے یا نئے کاروبار شروع کرنے کے لیے بھی وقت دیتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے ایک خاندانی دوست کی نوکری اچانک ختم ہو گئی تھی کیونکہ ان کے شعبے میں آٹومیشن آ گئی تھی۔ اگر ان کے پاس کوئی ہنگامی فنڈ نہ ہوتا تو ان کے لیے گزارا کرنا بہت مشکل ہو جاتا۔ اس لیے، موجودہ آمدنی کے ذرائع کے ساتھ ساتھ، اضافی آمدنی کے ذرائع (Side Hustles) پر بھی غور کرنا چاہیے۔ یہ نہ صرف مالی تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ نئے تجربات اور مہارتیں حاصل کرنے کا موقع بھی دیتا ہے۔

سرمایہ کاری اور متنوع ذرائع آمدن

آج کے دور میں صرف ایک نوکری پر انحصار کرنا دانشمندی نہیں ہے۔ ہمیں اپنی آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانا ہو گا۔ اس میں سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری، رئیل اسٹیٹ، یا اپنا چھوٹا کاروبار شروع کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت خود بھی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، جیسے AI سے چلنے والے سرمایہ کاری پلیٹ فارمز جو ذاتی مشورے فراہم کرتے ہیں اور پورٹ فولیو کو خود بخود منظم کرتے ہیں۔ میرے ایک بھائی نے حال ہی میں ایک ایسے پلیٹ فارم میں سرمایہ کاری کی ہے اور وہ اس کے نتائج سے کافی مطمئن ہے۔ ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ مالیاتی آزادی آج کے دور میں صرف امیر لوگوں کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو مستقبل میں خود کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے تھوڑی سی تحقیق اور محنت درکار ہوتی ہے، لیکن اس کے فوائد دیرپا ہوتے ہیں۔

خود کو تبدیل کرنے کا فن: مسلسل ارتقاء کی کہانی

Advertisement

اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلنا

تبدیلی کو قبول کرنا اور خود کو اس کے مطابق ڈھالنا ایک فن ہے جو اس دور میں ہر کسی کو سیکھنا چاہیے۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے زندگی ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے اور ہم کبھی بھی “مکمل” نہیں ہوتے۔ سب سے مشکل کام اپنے کمفرٹ زون (Comfort Zone) سے باہر نکلنا ہے۔ جب ہم کسی پرانی عادت یا کام کے طریقے سے چپکے رہتے ہیں تو نئی چیزوں کو سیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ “شاید یہ طریقہ بہتر ہو” یا “چلو کچھ نیا سیکھتے ہیں” تو نئے دروازے کھلتے ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ وہ لوگ جو تبدیلی کو خوش آمدید کہتے ہیں، وہ نہ صرف زیادہ کامیاب ہوتے ہیں بلکہ زندگی میں زیادہ خوش بھی رہتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ اس تیزی سے بدلتی دنیا میں جمود کا مطلب پیچھے رہ جانا ہے، اور آگے بڑھنے کا واحد راستہ مسلسل ارتقاء ہے۔

مثبت رویہ اور لچک پذیری

اس سب کے لیے ایک مثبت رویہ (Positive Attitude) اور لچک پذیری (Flexibility) انتہائی ضروری ہے۔ جب ہم کسی نئی ٹیکنالوجی یا چیلنج کا سامنا کرتے ہیں تو منفی سوچ کے بجائے اسے ایک موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ میرے ایک استاد کہا کرتے تھے کہ “ہر مشکل اپنے اندر ایک حل چھپائے ہوتی ہے” اور یہ بات بالکل سچ ہے۔ اگر ہم لچک دار ہوں اور حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکیں تو کوئی بھی تبدیلی ہمیں پریشان نہیں کر سکتی۔ ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ AI میری نوکری چھین لے گا، بلکہ یہ سوچنا چاہیے کہ میں AI کو کیسے استعمال کر سکتا ہوں تاکہ میری نوکری اور بھی بہتر ہو جائے۔ ہمیں خود کو بااختیار بنانا ہو گا اور یہ یقین رکھنا ہو گا کہ ہم کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ذہنی رویہ ہے جو ہمیں نہ صرف پیشہ ورانہ زندگی میں بلکہ ذاتی زندگی میں بھی بہت آگے لے جا سکتا ہے۔

آٹومیشن کی زد میں آنے والے روایتی پیشے اور ان کا مستقبل

کمپیوٹرائزیشن سے متاثر ہونے والی نوکریاں

آج کے دور میں سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ بہت سے ایسے پیشے جنہیں کبھی ہم محفوظ سمجھتے تھے، اب وہ آٹومیشن کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ چند سال پہلے تک بینکوں میں کیشیئرز کی ایک بڑی تعداد ہوتی تھی، لیکن اب ATM اور ڈیجیٹل بینکنگ کی وجہ سے ان کی ضرورت کافی حد تک کم ہو گئی ہے۔ اسی طرح، ڈیٹا انٹری کا کام جو پہلے بہت سے لوگوں کو روزگار فراہم کرتا تھا، اب زیادہ تر سافٹ ویئر اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے خود بخود ہو جاتا ہے۔ فیکٹریوں میں روایتی مزدوروں کی جگہ روبوٹس لے رہے ہیں، اور یہ سلسلہ صرف صنعتی شعبے تک محدود نہیں ہے۔ انتظامی امور، بک کیپنگ، اور یہاں تک کہ کچھ قانونی کام بھی اب مشین لرننگ الگورتھمز کی مدد سے زیادہ مؤثر طریقے سے انجام دیے جا رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے ایک رشتہ دار ایک بڑی کمپنی میں اکاؤنٹینٹ تھے اور ان کا زیادہ تر وقت کاغذی کارروائی اور انٹریز میں گزرتا تھا، لیکن اب ان کی جگہ ایک جدید سافٹ ویئر نے لے لی ہے جو سارے حساب کتاب اور رپورٹس منٹوں میں تیار کر دیتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر کئی بار دل میں ایک عجیب سی گھبراہٹ ہوتی ہے کہ ہماری نسل نے تو جو مہارتیں سیکھی تھیں وہ کیا اب بے کار ہو جائیں گی؟ لیکن پھر یہ بھی سوچتا ہوں کہ ہر تبدیلی اپنے ساتھ نئے مواقع بھی لاتی ہے، بس ہمیں انہیں پہچاننا اور ان کے لیے خود کو تیار کرنا ہے۔

اس تبدیلی کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے، آئیے کچھ ایسے پیشوں کا جائزہ لیتے ہیں جو آٹومیشن سے متاثر ہو رہے ہیں اور ان کے مقابلے میں کون سے نئے مواقع سامنے آ رہے ہیں:

روایتی پیشے (آٹومیشن سے متاثر) نئے ابھرتے ہوئے پیشے (AI/آٹومیشن کے ذریعے)
کیشیئر ڈیجیٹل ادائیگی ماہرین (Digital Payment Specialists)
ڈیٹا انٹری آپریٹر ڈیٹا اینالسٹ (Data Analyst)، مشین لرننگ انجینئر (Machine Learning Engineer)
فیکٹری ورکر (روایتی) روبوٹکس ٹیکنیشین (Robotics Technician)، آٹومیشن انجینئر (Automation Engineer)
بک کیپر/اکاؤنٹینٹ (دستی) فنانشل ٹیکنالوجی ماہرین (FinTech Specialists)، AI آڈیٹر (AI Auditor)
کال سینٹر ایجنٹ (عام سوالات) کسٹمر ایکسپیرینس ڈیزائنر (Customer Experience Designer)، AI چیٹ بوٹ ڈویلپر (AI Chatbot Developer)
ڈرائیور (ٹرانسپورٹ) خود مختار گاڑی ٹیکنیشین (Autonomous Vehicle Technician)، لاجسٹکس آپٹیمائزر (Logistics Optimizer)

ڈیجیٹل دور میں بدلتے کام کے انداز

یہ تبدیلی صرف نوکریوں کے خاتمے تک محدود نہیں بلکہ کام کرنے کے انداز کو بھی یکسر بدل رہی ہے۔ مثال کے طور پر، ٹرانسپورٹ کے شعبے کو ہی لے لیں، جہاں خودکار گاڑیاں اور ڈرونز کی آمد سے ڈرائیوروں اور ڈیلیوری عملے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ کال سینٹرز میں بھی اب بہت سے کام چیٹ بوٹس اور AI اسسٹنٹس کے ذریعے کیے جا رہے ہیں، جو صارفین کے سوالات کے جوابات دیتے ہیں اور مسائل حل کرتے ہیں۔ مجھے ایک دوست نے بتایا کہ وہ جس کال سینٹر میں کام کرتا تھا، وہاں پچھلے ایک سال میں عملے کی تعداد آدھی رہ گئی ہے کیونکہ ان کے آدھے سے زیادہ سوالات اب AI ہینڈل کر لیتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ہم ایک ایسے طوفان کی زد میں ہیں جو سب کچھ بدل کر رکھ دے گا، اور اس طوفان سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم خود کو مضبوط بنائیں اور نئی ہواؤں کے رخ کو سمجھیں۔ روایتی ریٹیل میں بھی آن لائن شاپنگ اور خودکار چیک آؤٹ سسٹمز کی وجہ سے سیلز پرسن اور کیشیئرز کی مانگ کم ہو رہی ہے۔ یہ سب اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر ہم نے اپنے ہنر کو اپ ڈیٹ نہیں کیا تو ہم اس تیز رفتار دنیا میں پیچھے رہ جائیں گے۔

مصنوعی ذہانت اور ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بننا

AI اب صرف فلموں کی کہانی نہیں

آج سے کچھ سال پہلے مصنوعی ذہانت صرف سائنس فکشن فلموں کی کہانیوں تک محدود تھی، لیکن اب یہ حقیقت بن چکی ہے اور ہماری روزمرہ کی زندگی کا لازمی جزو بن گئی ہے۔ آپ نے شاید محسوس کیا ہو گا کہ جب آپ کوئی چیز آن لائن خریدتے ہیں، تو آپ کو ملتی جلتی مصنوعات کی تجاویز ملتی ہیں۔ یہ سب AI کی مرہون منت ہے۔ جب آپ اپنے اسمارٹ فون پر گوگل میپس استعمال کرتے ہیں یا اپنے پسندیدہ گانے سنتے ہیں تو وہ آپ کی ترجیحات کے مطابق خود بخود پلے لسٹ بناتا ہے، یہ بھی مصنوعی ذہانت کا کمال ہے۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ میں نے حال ہی میں ایک نئی سمارٹ ہوم ڈیوائس خریدی ہے جو میری آواز پر کام کرتی ہے اور گھر کے تمام آلات کو کنٹرول کرتی ہے۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسی ٹیکنالوجی میرے اپنے گھر میں ہو گی!

یہ صرف سہولت ہی نہیں فراہم کر رہی بلکہ ہمارے رہنے سہنے کے انداز کو بھی تبدیل کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا فیڈز سے لے کر ای میل فلٹرز تک، AI ہر جگہ موجود ہے اور خاموشی سے ہمارے فیصلوں اور تجربات پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ہمیں اسے ایک طاقتور ٹول کے طور پر دیکھنا چاہیے جو ہمارے کاموں کو آسان بنا سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اس کا صحیح استعمال کرنا سیکھیں۔

Advertisement

AI کے فوائد اور چیلنجز

مصنوعی ذہانت کے فوائد بے شمار ہیں، جیسے کہ صحت کے شعبے میں بیماریوں کی جلد تشخیص، مالیاتی شعبے میں فراڈ کا پتہ لگانا، اور تعلیم میں طلباء کی انفرادی ضروریات کے مطابق مواد فراہم کرنا۔ لیکن اس کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج تو یہ ہے کہ بہت سے لوگ اس نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے سے گھبراتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ یہ بہت پیچیدہ ہے یا شاید ان کی نوکری چھین لے گا۔ پھر اخلاقی چیلنجز بھی ہیں، جیسے کہ AI کے فیصلوں میں تعصب کا امکان یا ڈیٹا پرائیویسی کے مسائل۔ ایک بار میں نے ایک خبر پڑھی تھی کہ ایک AI سسٹم نے غلطی سے کچھ لوگوں کو نوکری کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا کیونکہ اس میں پرانے ڈیٹا کی بنیاد پر کچھ تعصبات شامل ہو گئے تھے۔ یہ سب ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں AI کو صرف ایک مشین نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا ہوگا۔ ہمیں اس کے الگورتھمز کو سمجھنا ہوگا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ یہ انسانیت کے لیے مفید ثابت ہو۔ میرے خیال میں اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمیں دہرائے جانے والے اور بورنگ کاموں سے آزاد کر سکتا ہے تاکہ ہم زیادہ تخلیقی اور بامعنی کاموں پر توجہ دے سکیں۔

نئے دور کے لیے ضروری ہنر اور صلاحیتیں

자동화로 사라지는 직업 목록 관련 이미지 2

تخلیقی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت

آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے اس دور میں زندہ رہنے اور ترقی کرنے کے لیے ہمیں اپنے ہنر سیٹ کو اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔ وہ ہنر جو انسانوں کو مشینوں سے ممتاز کرتے ہیں، اب پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو تخلیقی سوچ (Critical Thinking) اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت (Problem Solving) ہے۔ مشینیں ڈیٹا کو پروسیس کر سکتی ہیں، لیکن وہ نئے آئیڈیاز نہیں بنا سکتیں یا پیچیدہ انسانی مسائل کو گہرائی سے سمجھ کر حل نہیں کر سکتیں۔ ایک دفعہ میں ایک پروجیکٹ پر کام کر رہا تھا جہاں ہم نے ایک پرانے سسٹم کو نئے AI پر مبنی حل سے تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ AI نے بہت سے کاموں کو خود بخود کر دیا، لیکن جب کوئی غیر متوقع مسئلہ پیش آیا تو صرف انسانی تخلیقی سوچ ہی تھی جو اس کا انوکھا حل نکال سکی۔ اس کے علاوہ، پیچیدہ تجزیاتی سوچ، جہاں آپ مختلف معلومات کو جوڑ کر ایک بڑی تصویر دیکھتے ہیں، یہ بھی ایک ایسا ہنر ہے جسے مشینیں آسانی سے نقل نہیں کر سکتیں۔ میرے خیال میں یہ ہنر ہمیں نہ صرف اپنے کیریئر میں آگے بڑھنے میں مدد دیں گے بلکہ ہمیں ذاتی زندگی میں بھی بہتر فیصلے کرنے کے قابل بنائیں گے۔

جذباتی ذہانت اور مواصلاتی ہنر

دوسرے نمبر پر جذباتی ذہانت (Emotional Intelligence) اور مواصلاتی ہنر (Communication Skills) ہیں۔ مشینیں انسانوں کے جذبات کو سمجھ نہیں سکتیں اور نہ ہی ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کر سکتیں۔ جبکہ آج کے دور میں ٹیم ورک، کسٹمر سروس، اور قیادت کے لیے یہ دونوں ہنر انتہائی اہم ہیں۔ آپ کسی AI سے یہ توقع نہیں کر سکتے کہ وہ کسی ناراض کسٹمر کو سمجھا سکے یا کسی ٹیم کے اندر پیدا ہونے والے تنازع کو حل کر سکے۔ انسانی تعلقات کی نزاکتیں صرف انسان ہی سمجھ سکتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب کوئی مشکل صورتحال پیش آتی ہے تو صرف وہی لوگ اسے احسن طریقے سے حل کر پاتے ہیں جن میں جذباتی ذہانت اور بہترین مواصلاتی ہنر ہوتے ہیں۔ یہ ہنر نہ صرف ہمارے کام کی جگہ پر بلکہ ہماری ذاتی زندگی میں بھی خوشگوار تعلقات برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ، تنقیدی سوچ (Critical Thinking)، فیصلہ سازی (Decision Making) اور سیکھنے کی مسلسل خواہش (Continuous Learning) بھی ایسے ہنر ہیں جو ہمیں اس بدلتے ہوئے دور میں مستحکم رکھیں گے۔

پاکستان میں AI اور آٹومیشن کے مواقع اور چیلنجز

Advertisement

مقامی معیشت پر اثرات

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کے اثرات دو دھاری تلوار کی مانند ہیں۔ ایک طرف، یہ ہماری معیشت کو جدید بنانے اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کا ایک سنہری موقع فراہم کرتے ہیں، تو دوسری طرف، روزگار کے مواقع کے حوالے سے نئے چیلنجز بھی کھڑے کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب ہمارے شہر میں پہلی بڑی ٹیکسٹائل فیکٹری میں جدید مشینیں لگائی گئیں تو بہت سے لوگ پریشان ہو گئے تھے کہ اب ان کی نوکریاں ختم ہو جائیں گی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ نئی مشینیں چلانے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے نئے ہنر مند افراد کی ضرورت بھی پیش آئی۔ پاکستان میں خاص طور پر زراعت، مینوفیکچرنگ، اور سروسز کے شعبے میں آٹومیشن کا گہرا اثر نظر آ رہا ہے۔ ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹمز اور ای-گورننس کی طرف بڑھتا رجحان بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ ہمیں اس تبدیلی کو قبول کرنا ہو گا۔ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہو گا تاکہ اس تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے اور مثبت اثرات کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جا سکے۔

نئے کاروبار اور روزگار کے دروازے

یہ صرف نوکریاں چھیننے کا معاملہ نہیں بلکہ نئے کاروبار اور روزگار کے دروازے کھولنے کا بھی ایک موقع ہے۔ پاکستان میں خاص طور پر ٹیکنالوجی سٹارٹ اپس (Technology Startups) کا ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے جو مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن پر مبنی حل فراہم کر رہے ہیں۔ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی، اور AI انجینئرنگ جیسے شعبوں میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ نوجوانوں کو ان شعبوں کی طرف راغب کیا جائے اور انہیں ضروری تعلیم اور تربیت فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ، AI سے متعلق مشاورت (AI Consultancy) اور تربیت کی بھی بہت مانگ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم نے ہوشیاری سے کام لیا تو ہم اس تبدیلی کو اپنے فائدے میں بدل سکتے ہیں۔ ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ وہ کون سے شعبے ہیں جہاں AI انسانوں کی جگہ نہیں لے سکتا، بلکہ ان کے ساتھ مل کر کام کر سکتا، اور پھر ان شعبوں میں سرمایہ کاری کرنی ہے۔

تعلیم اور تربیت کا کردار: مستقبل کے لیے تیاری

نصاب میں تبدیلی کی ضرورت

اس تیزی سے بدلتی دنیا میں تعلیم کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام کو اس نئے چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے خود کو بدلنا ہوگا۔ روایتی نصاب جو صرف رٹا لگانے پر زور دیتا ہے، اب کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنے بچوں کو ایسے ہنر سکھانے ہوں گے جو انہیں مستقبل کی نوکریوں کے لیے تیار کر سکیں۔ اس میں کوڈنگ، ڈیٹا اینالیٹکس، مشین لرننگ کے بنیادی تصورات، اور سب سے اہم بات، تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے والد صاحب ہمیشہ کہتے تھے کہ “جو علم وقت کے ساتھ نہ بدلے وہ بے کار ہے” اور آج یہ بات بالکل سچ لگتی ہے۔ ہمیں سکولوں اور کالجوں میں جدید ترین ٹیکنالوجیز کو متعارف کرانا ہو گا اور اساتذہ کو بھی اس کے لیے تربیت دینی ہو گی۔ یہ صرف ڈگری حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ عملی مہارتیں سیکھنے کا ہے۔

لائف لانگ لرننگ کی اہمیت

آج کے دور میں “لائف لانگ لرننگ” یعنی زندگی بھر سیکھتے رہنے کا تصور بے حد ضروری ہے۔ جب میں نے اپنی تعلیم مکمل کی تھی تو مجھے لگتا تھا کہ میں نے سب کچھ سیکھ لیا ہے، لیکن آج میں دیکھتا ہوں کہ ہر چند سال بعد نئی ٹیکنالوجیز آ جاتی ہیں اور ہمیں خود کو اپ ڈیٹ کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں نئے ہنر سیکھنے اور پرانے ہنر کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشاں رہنا چاہیے۔ آن لائن کورسز، ورکشاپس، اور سرٹیفیکیشنز (Certifications) اس کے لیے بہترین وسائل ہیں۔ میرا ایک دوست ہے جو بینک میں کام کرتا تھا اور جب آٹومیشن کا خطرہ بڑھا تو اس نے ڈیٹا سائنس کا ایک آن لائن کورس کیا اور اب وہ بینک کے لیے ڈیٹا اینالیٹکس کا کام کرتا ہے، یعنی اس نے خود کو مکمل طور پر ری سکل (Reskill) کر لیا۔ یہ مثال ہمیں بتاتی ہے کہ اگر ہم سیکھنے کی خواہش رکھیں تو کوئی بھی چیلنج ہمیں ہرا نہیں سکتا۔ ہمیں نئے ٹولز اور ٹیکنالوجیز کو اپنانے سے نہیں گھبرانا چاہیے بلکہ انہیں ایک موقع سمجھنا چاہیے تاکہ ہم اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں۔

ذہین مشینوں کے ساتھ کام کرنا: انسانیت کا نیا باب

Advertisement

انسان اور مشین کی ہم آہنگی

اب یہ تصور کہ مشینیں ہماری جگہ لے لیں گی، تبدیل ہو کر یہ ہو گیا ہے کہ مشینیں ہمارے ساتھ مل کر کام کریں گی۔ یہ انسانیت کا ایک نیا باب ہے جہاں انسان اور مصنوعی ذہانت ایک دوسرے کے معاون بنیں گے۔ ڈاکٹرز AI کی مدد سے بیماریوں کی زیادہ درست تشخیص کر سکیں گے، انجینئرز بہتر ڈیزائن بنا سکیں گے، اور فنکار اپنی تخلیقات کو نئے انداز میں پیش کر سکیں گے۔ میرا ماننا ہے کہ AI کا مقصد انسانوں کو بے کار کرنا نہیں بلکہ ان کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے تاکہ وہ زیادہ پیچیدہ، تخلیقی اور بامعنی کاموں پر توجہ دے سکیں۔ جب میں کوئی بلاگ پوسٹ لکھتا ہوں تو AI مجھے ریسرچ کرنے اور آئیڈیاز پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے، لیکن حتمی تحریر اور انسانی احساسات کا اظہار تو صرف میں ہی کر سکتا ہوں۔ یہ وہی “آگمنٹڈ انٹیلی جنس” ہے جہاں AI ہماری سوچ اور صلاحیتوں کو وسعت دیتا ہے۔

سہولت اور وقت کی بچت

جب انسان اور مشین مل کر کام کرتے ہیں تو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سے کام جو پہلے وقت طلب اور مشکل ہوتے تھے، اب وہ نہ صرف آسان ہو جاتے ہیں بلکہ بہت کم وقت میں مکمل ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کسٹمر سروس میں AI چیٹ بوٹس ابتدائی سوالات کے جوابات دیتے ہیں اور عام مسائل حل کرتے ہیں، جس سے انسانی ایجنٹس کو مزید پیچیدہ اور حساس معاملات پر توجہ دینے کا موقع ملتا ہے۔ اس سے صارفین کو فوری رسپانس ملتا ہے اور کمپنیوں کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح، مینوفیکچرنگ میں روبوٹس دہرائے جانے والے اور خطرناک کام کرتے ہیں، جس سے انسانی مزدوروں کی حفاظت یقینی بنتی ہے اور وہ زیادہ ہنر مندانہ کاموں پر فوکس کر سکتے ہیں۔ مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے AI ایک ایسا اسسٹنٹ ہے جو ہمارے روزمرہ کے کاموں کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے اور ہمیں اپنے بہترین کام کو انجام دینے کے لیے زیادہ آزادی دیتا ہے۔ یہ سب ہماری زندگی میں سہولت اور وقت کی بچت لاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے اہم مقاصد پر زیادہ توجہ دے سکتے ہیں۔

مالیاتی منصوبہ بندی اور مستقبل کا تحفظ

تبدیلی کے لیے مالیاتی تیاری

آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے اس دور میں جہاں نوکریوں کے مواقع تبدیل ہو رہے ہیں، وہاں مالیاتی منصوبہ بندی کی اہمیت بھی دو چند ہو گئی ہے۔ ہمیں صرف ہنر مندی پر ہی نہیں بلکہ اپنی مالی حالت پر بھی توجہ دینی ہو گی۔ میرا مشورہ ہے کہ ہر کسی کو ایک ہنگامی فنڈ (Emergency Fund) ضرور بنانا چاہیے جو کم از کم چھ ماہ کے اخراجات پورے کر سکے۔ یہ نہ صرف غیر یقینی صورتحال میں تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ نئے ہنر سیکھنے یا نئے کاروبار شروع کرنے کے لیے بھی وقت دیتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے ایک خاندانی دوست کی نوکری اچانک ختم ہو گئی تھی کیونکہ ان کے شعبے میں آٹومیشن آ گئی تھی۔ اگر ان کے پاس کوئی ہنگامی فنڈ نہ ہوتا تو ان کے لیے گزارا کرنا بہت مشکل ہو جاتا۔ اس لیے، موجودہ آمدنی کے ذرائع کے ساتھ ساتھ، اضافی آمدنی کے ذرائع (Side Hustles) پر بھی غور کرنا چاہیے۔ یہ نہ صرف مالی تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ نئے تجربات اور مہارتیں حاصل کرنے کا موقع بھی دیتا ہے۔

سرمایہ کاری اور متنوع ذرائع آمدن

آج کے دور میں صرف ایک نوکری پر انحصار کرنا دانشمندی نہیں ہے۔ ہمیں اپنی آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانا ہو گا۔ اس میں سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری، رئیل اسٹیٹ، یا اپنا چھوٹا کاروبار شروع کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت خود بھی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، جیسے AI سے چلنے والے سرمایہ کاری پلیٹ فارمز جو ذاتی مشورے فراہم کرتے ہیں اور پورٹ فولیو کو خود بخود منظم کرتے ہیں۔ میرے ایک بھائی نے حال ہی میں ایک ایسے پلیٹ فارم میں سرمایہ کاری کی ہے اور وہ اس کے نتائج سے کافی مطمئن ہے۔ ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ مالیاتی آزادی آج کے دور میں صرف امیر لوگوں کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو مستقبل میں خود کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے تھوڑی سی تحقیق اور محنت درکار ہوتی ہے، لیکن اس کے فوائد دیرپا ہوتے ہیں۔

خود کو تبدیل کرنے کا فن: مسلسل ارتقاء کی کہانی

Advertisement

اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلنا

تبدیلی کو قبول کرنا اور خود کو اس کے مطابق ڈھالنا ایک فن ہے جو اس دور میں ہر کسی کو سیکھنا چاہیے۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے زندگی ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے اور ہم کبھی بھی “مکمل” نہیں ہوتے۔ سب سے مشکل کام اپنے کمفرٹ زون (Comfort Zone) سے باہر نکلنا ہے۔ جب ہم کسی پرانی عادت یا کام کے طریقے سے چپکے رہتے ہیں تو نئی چیزوں کو سیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ “شاید یہ طریقہ بہتر ہو” یا “چلو کچھ نیا سیکھتے ہیں” تو نئے دروازے کھلتے ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ وہ لوگ جو تبدیلی کو خوش آمدید کہتے ہیں، وہ نہ صرف زیادہ کامیاب ہوتے ہیں بلکہ زندگی میں زیادہ خوش بھی رہتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ اس تیزی سے بدلتی دنیا میں جمود کا مطلب پیچھے رہ جانا ہے، اور آگے بڑھنے کا واحد راستہ مسلسل ارتقاء ہے۔

مثبت رویہ اور لچک پذیری

اس سب کے لیے ایک مثبت رویہ (Positive Attitude) اور لچک پذیری (Flexibility) انتہائی ضروری ہے۔ جب ہم کسی نئی ٹیکنالوجی یا چیلنج کا سامنا کرتے ہیں تو منفی سوچ کے بجائے اسے ایک موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ میرے ایک استاد کہا کرتے تھے کہ “ہر مشکل اپنے اندر ایک حل چھپائے ہوتی ہے” اور یہ بات بالکل سچ ہے۔ اگر ہم لچک دار ہوں اور حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکیں تو کوئی بھی تبدیلی ہمیں پریشان نہیں کر سکتی۔ ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ AI میری نوکری چھین لے گا، بلکہ یہ سوچنا چاہیے کہ میں AI کو کیسے استعمال کر سکتا ہوں تاکہ میری نوکری اور بھی بہتر ہو جائے۔ ہمیں خود کو بااختیار بنانا ہو گا اور یہ یقین رکھنا ہو گا کہ ہم کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ذہنی رویہ ہے جو ہمیں نہ صرف پیشہ ورانہ زندگی میں بلکہ ذاتی زندگی میں بھی بہت آگے لے جا سکتا ہے۔

글을마치며

اس تمام بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ بدلتے وقت کے ساتھ خود کو بدلنا ہی کامیابی کا راز ہے۔ مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن ہمارے دشمن نہیں بلکہ ہمارے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ہم انہیں سمجھیں اور ان کا درست استعمال کریں۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ انسانیت کا تخلیقی جوہر اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت ہمیشہ مشینوں سے برتر رہے گی۔ ہمیں صرف نئے ہنر سیکھنے اور اپنے اندر لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اس نئے دور کے مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ یاد رکھیں، یہ اختتام نہیں بلکہ ایک نئے سفر کا آغاز ہے جہاں انسان اور ٹیکنالوجی مل کر ایک بہتر مستقبل بنائیں گے۔

알아두면 쓸مو 있는 정보

1. آٹومیشن کے اس دور میں اپنے ہنر کو مسلسل اپ ڈیٹ کرتے رہیں؛ نئے آن لائن کورسز اور ٹریننگ سے کبھی بھی منہ نہ موڑیں۔

2. ایسے ہنر پر توجہ دیں جو مشینیں آسانی سے نقل نہیں کر سکتیں، جیسے تخلیقی سوچ، جذباتی ذہانت، اور مؤثر مواصلات۔

3. مالیاتی طور پر خود کو محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی فنڈ (Emergency Fund) ضرور بنائیں جو کم از کم چھ ماہ کے اخراجات پورے کر سکے۔

4. آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنائیں؛ صرف ایک نوکری پر انحصار کرنے کی بجائے سائیڈ ہسٹلز یا سرمایہ کاری پر غور کریں۔

5. مصنوعی ذہانت کو ایک ٹول کے طور پر دیکھیں جو آپ کے کام کو آسان اور بہتر بنا سکتا ہے، نہ کہ ایک خطرے کے طور پر۔

Advertisement

중요 사항 정리

اس بلاگ پوسٹ میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت ہمارے روایتی پیشوں اور روزمرہ کی زندگی کو بدل رہے ہیں۔ یہ تبدیلی جہاں کچھ چیلنجز لائی ہے، وہیں بے شمار نئے مواقع بھی پیدا کر رہی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اس تبدیلی کو قبول کرنا ہوگا، اپنے ہنر کو اپ ڈیٹ کرنا ہوگا اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کرنا ہوگا۔ تخلیقی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، جذباتی ذہانت، اور لائف لانگ لرننگ آج کے دور کے سب سے قیمتی ہنر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مالیاتی منصوبہ بندی اور آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانا بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ ہم ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھ سکیں۔ یاد رکھیں، یہ ٹیکنالوجی ہمیں مزید بااختیار بنانے آئی ہے، اور اگر ہم اسے سمجھداری سے استعمال کریں تو ہم انسانیت کا ایک نیا اور شاندار باب رقم کر سکتے ہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: مصنوعی ذہانت (AI) اور آٹومیشن سے پاکستان میں کون سی نوکریاں سب سے زیادہ خطرے میں ہیں؟

ج: یہ سوال آج کل ہر کسی کے ذہن میں ہے، اور یقین کریں میں نے بھی خود اس پر بہت سوچا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میرے چچا جان ایک بینک میں کلرک تھے، ان کا سارا کام ہاتھوں سے ہوتا تھا، فائلیں بنانا، حساب کتاب رکھنا۔ آج کل تو یہ سب کچھ کمپیوٹر اور سافٹ ویئر خود بخود کر رہے ہیں۔ میرے ذاتی تجربے کے مطابق اور جو میں نے تحقیق کی ہے، پاکستان میں بھی کچھ ایسے شعبے ہیں جو واقعی اس تبدیلی کی زد میں ہیں۔ سب سے پہلے تو ‘ڈیٹا انٹری’ اور ‘ریپیٹیٹو ایڈمنسٹریٹو ٹاسکس’ والی نوکریاں، جہاں ایک ہی طرح کا کام بار بار کرنا پڑتا ہے۔ جیسے بینکوں اور دفاتر میں کلریکل کام، یا کال سینٹرز میں سادہ نوعیت کے سوالات کے جواب دینا۔ یہ کام اب AI چیٹ باٹس اور خودکار سسٹم زیادہ بہتر اور تیزی سے کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، فیکٹریوں میں ‘مینوفیکچرنگ’ کا وہ حصہ جہاں صرف ہاتھوں سے ایک ہی چیز بنانی ہوتی ہے، وہاں بھی روبوٹس اور آٹومیشن کا عمل بہت تیز ہو گیا ہے۔ اسی طرح، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ‘ڈرائیونگ’ کا کام بھی خودکار گاڑیوں کی آمد سے مستقبل میں خطرے میں آ سکتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ ہمارے کئی پڑھے لکھے نوجوان جو صرف ڈیٹا انٹری یا عام دفتری کام کر رہے تھے، انہیں اب نئے ہنر سیکھنے پڑ رہے ہیں۔ یہ کوئی ڈرانے والی بات نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے جسے تسلیم کرنا ہو گا تاکہ ہم اس کے لیے تیار رہیں۔

س: اس تیزی سے بدلتے ہوئے ماحول میں پاکستانی نوجوانوں کو کون سی مہارتیں سیکھنی چاہئیں تاکہ وہ اپنا مستقبل محفوظ بنا سکیں؟

ج: یہ ایک بہت اہم سوال ہے اور میرے خیال میں اس کا جواب ہر اس نوجوان کو پتہ ہونا چاہیے جو اپنے مستقبل کے لیے پریشان ہے۔ جب میں نے خود یہ صورتحال دیکھی تو مجھے لگا کہ اب پرانے طریقے کام نہیں آئیں گے، کچھ نیا سیکھنا ہو گا۔ میں نے اپنی ریسرچ اور کئی ماہرین سے بات چیت کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سب سے اہم چیز ہے ‘ڈیجیٹل لٹریسی’ اور ‘ٹیکنالوجی کی بنیادی سمجھ’۔ اس میں کوڈنگ، ڈیٹا سائنس، مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ کے بنیادی تصورات شامل ہیں۔ اگر آپ ان کو مکمل طور پر نہیں بھی سیکھ سکتے تو کم از کم ان کی سمجھ ضرور ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ‘کریٹیکل تھنکنگ’ اور ‘پرابلم سالونگ’ کی مہارتیں بہت ضروری ہیں، کیونکہ AI ہمیں معلومات تو دے سکتا ہے، مگر اس معلومات کو استعمال کر کے نئے مسائل حل کرنا انسان ہی کا کام ہے۔ ‘تخلیقی سوچ’ (Creativity) بھی بہت اہم ہے، کیونکہ AI صرف موجودہ ڈیٹا کی بنیاد پر کام کرتا ہے، نیا اور منفرد خیال انسان ہی لاتا ہے۔ ‘کمیونیکیشن’ اور ‘ٹیم ورک’ کی مہارتیں بھی نہیں بھولی جا سکتیں، کیونکہ مستقبل میں انسان اور AI کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ اور ہاں، ‘مستقل سیکھنے کی عادت’ (Lifelong Learning) سب سے ضروری ہے، کیونکہ ٹیکنالوجی بہت تیزی سے بدل رہی ہے اور ہمیں بھی اس کے ساتھ چلنا ہو گا۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ میرے کئی دوست جنہوں نے انہی مہارتوں پر توجہ دی، آج وہ مارکیٹ میں بہترین جابز کر رہے ہیں، چاہے وہ گرافک ڈیزائننگ ہو، ڈیجیٹل مارکیٹنگ ہو یا سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ۔

س: آٹومیشن اور AI کے بڑھتے استعمال کے باوجود، کیا پاکستان میں ایسے شعبے بھی ہیں جہاں انسانی عملے کی مانگ بڑھ رہی ہے یا محفوظ رہے گی؟

ج: بالکل! یہ ایک مثبت پہلو ہے جسے دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ جب میں یہ سارا بدلتا منظرنامہ دیکھتا ہوں تو ایک لمحے کو یہ احساس ہوتا ہے کہ سب کچھ ختم ہو جائے گا، لیکن پھر میں حقیقت کو دیکھتا ہوں اور مجھے احساس ہوتا ہے کہ انسان کی اپنی ایک جگہ ہے۔ کچھ شعبے ایسے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت شاید کبھی بھی انسان کی جگہ نہیں لے سکتی، یا لے گی بھی تو بہت مشکل ہو گی۔ میرے تجربے میں سب سے پہلے ‘صحت کا شعبہ’ (Healthcare) آتا ہے۔ ڈاکٹرز، نرسز، ماہرینِ نفسیات کا کام صرف تشخیص کرنا نہیں ہوتا، بلکہ مریضوں سے ہمدردی، انہیں تسلی دینا اور ان سے انسانی تعلق بنانا بھی بہت اہم ہے۔ AI یہ جذباتی پہلو نہیں سمجھ سکتا۔ اسی طرح ‘تعلیمی شعبہ’ (Education) بھی بہت محفوظ ہے، جہاں اساتذہ صرف معلومات نہیں دیتے بلکہ طلباء کی شخصیت سازی اور انہیں رہنمائی بھی فراہم کرتے ہیں، جو AI کے لیے ممکن نہیں۔ ‘فنکارانہ اور تخلیقی پیشے’ (Creative Arts)، جیسے مصوری، موسیقی، لکھاری، گرافک ڈیزائنرز اور مواد بنانے والے، یہاں بھی انسانیت کا رنگ بہت گہرا ہے، کیونکہ تخلیقی سوچ صرف انسان ہی پیدا کر سکتا ہے۔ ‘ریلیشن شپ مینجمنٹ’ اور ‘کسٹمر سروس’ کا وہ حصہ جہاں گہرے انسانی تعلقات اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنا ہو، وہاں بھی انسان کی ضرورت رہے گی۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ ایسے شعبوں میں پاکستانیوں کو بہت مواقع مل رہے ہیں جہاں انہیں اپنی انسانی مہارتوں اور تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا پڑتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ AI ہمارا دشمن نہیں بلکہ ایک آلہ ہے جسے استعمال کر کے ہم خود کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔